شریف فیملی پر بلا تحقیق الزامات کی حقیقت

شریف فیملی کے خلاف بہت سی باتیں بظاہر باتیں بہت معقول دکھائی دیتی ہیں اگر تحقیق نہ کی جائیں- بہت متاثر کن اسکرپٹ ، چمکا کر “زخرف” انداز میں پیش کیے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ہم ایسے انسانی شیاطین لگا دیتے ہیں جو باطل پرستوں کے حق میں دلکش دلائل دیتے رہتے ہیں حقیقت البتہ بہت مختلف ہے-

نیب پرویز مشرف نے بنائی تھی اور اسکا سربراہ نامی گرامی کرپٹ قادیانی فاروق آدم کو بنایا تھا جسکا بھائی تاشفین آدم ہمارے ساتھ پمز میں تھا- اسکی اسلام دشمنی سے بھی کئی لوگ اچھی طرح آگاہ تھے- نیب انصاف کے بنیادی ترین اصول کہ بندہ اسوقت تک بے قصور ہے جب تک اسپر جرم ثابت نہ ہوجائیے کے بالکل متضاد تھا- یہ صرف الزام لگا کر بندے کو لمبے عرصے تک جیل میں ڈالکر سزا دینے کا مجاز تھا جو اسلام اور انصاف کے عالمی اصول کے بالکل متضاد ہے- جرم ثابت کرنا الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہاں یہ ذمہ داری جس پر الزام لگایا گیا بغیر جرم ثابت کئیے اسکی بن جاتی ہے کہ وہ اپنے آپکو بیگناہ ثابت کرے جو جیل میں بند فرد کے لئیے بہت مشکل اور طویل ہوسکتا ہے-

مشرف جسکی بیوی صہبا کوٹ باری نزد اوکاڑہ کی قادیانی ہیں ( اور جب مرد قادیانی عورت سے شادی کرتا ہے تو اسے قادیانی بنایا جاتا ہے) نے نیب بنائی تاکہ لوگوں کو زبردستی مسلم لیگ قائداعظم یا ق میں شامل کیا جائیے- جس بااثر شخصیت نے انکار کیا اسپر مقدمات بنا دئیے گئیے- لوگ ڈر کر اور /یا لالچ سے ق میں شامل ہوے، پنجاب کے چوہدری اسکی بڑی مثال ہیں-

نیب کو مشرف سے زیادہ عمران نیازی نے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے اور سزا دینے کے لئیے استعمال کیا- ن خاص طور پر اسکا نشانہ بنیچونکہ اکثر بیشتر الزامات جھوٹے تھے تو یہ عدالت میں ثابت نہ کرسکے-

اب نیب کا قانون اسلام اور عالمی معیار کے مطابق کردیا گیا ہے یعنی جرم ثابت ہونے کے بعد سزا دی جاسکتی ہے- اور اسکا سب سے زیادہ فائدہ بھی عمران نیازی اور انکے پجاریوں کو ہوا- وگرنہ یہ سب اب جیلوں میں ہوتے!

چونکہ ن پر الزامات جھوٹے تھے لہذا ان افراد کی ضمانت ہوگی اور باہر بیٹھے ن کے لوگ واپس آرہے ہیں- عام لوگ اکثر ملزم اور مجرم کا فرق نہیں سمجھتے – یہ دونوں عربی الفاظ ہیں- عربی میں م کا مطلب والا کا ہوتا ہے- ملزم کا مطلب ہے الزام والا اور مجرم کا مطلب ہے جرم والا مثلاً حضرت یوسف ع پر الزام لگا تو وہ ملزم بن گئیے لیکن مجرم نہیں تھے- آپ کسی پر بھی الزام لگادیں اور اسکا میڈیا ٹرائل شروع کرادیں ۔ بیوقوف لوگ اسے سچ سمجھنا شروع کردیں گے- جب شہزاد اکبر قادیانی اور عمران قادیانی النسل نے ترنگ میں آکر لندن کی عدالتوں میں شریف خاندان کے خلاف مقدمات کئیے تھے تو کیا نتیجہ نکلا؟ وہ ثاقب اور کھوسہ اور اعجازالحسن و بندیال کی عدالتیں تو تھی نہیں، زبردست تین سالا تحقیقات کے بعد الزامات جھوٹے ثابت ہوے اور انپر 65 ملئین پاؤنڈز کا جرمانہ ہوا جو انہوں نے غریب عوام کے پیسوں سے ادا کیا- اسی طرح جھوٹے الزامات پرARY اور HUM TV کو جرمانے ہوے-

شریف فیملی کیا اپنی مرضی سے باہر گئی ہے؟ شریف فیملی عتاب کا شکار بھٹو دور سے بننا شروع ہوئی جب پاکستان صنعتی میدان میں چین اور جنوبی کوریا سے بھی آگے تھا- شریف فیملی وہ واحد سیاسی فیملی تھی جو صنعت سے سیاست میں (وہ بھی حادثاتی طور پر) آئی تھی- پاکستان مخالف قوتیں ہاکستان کو صنعتی میدان میں ہیچھے دھکیلنا چاہتی تھیں جسکا آغاز بھٹو نے تمام صنعتوں کو قومیا کر ستیاناس کرنے سے شروع کیا اور ایم ایم احمد قادیانی نے ایوب کے دور میں آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ! اسوقت تک شریف فیملی پاکستان کی بیکو کے بعد سب سے بڑی صنعت بن چکی تھی- اسوقت یہ اسوقت کے ایک بلئین ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں ادا کررہے تھے- یہ خاندانی فیملی تھی اور اسکے سرپرست میاں محمد شریف مرحوم انتہائی محنتی، دیانتدار اور قابل فرد تھے جنہوں نے اپنے چھ بھائیوں سے ملکر اس صنعت کو ترویج و ترقی دی تھی- اسکے ساتھ ہی یہ پانچ وقت باجماعت نماز کے پابند اور بیحد سخی تھے- شریف مرحوم نے اپنی جیب سے شوکت خانم کے کل بجٹ کا ستر فیصد جو اسوقت کے پچاس کروڑ بنتے تھے عطیہ کیا تھا!

پھر بینظیر نے ہر طرح سے انہیں تنگ کیا – دنیا سے اسکریپ لوہے لانے والے امریکی جہاز جوناتھن کو پورے ایک سال لنگر انداز نہیں ہونے دیا جسکا ڈیمریج انہیں ادا کرنا پڑا-

اسوقت محمد شریف مرحوم 25 صنعتوں کے مالک تھے جنمیں ایک آدھ مشرقی پاکستان میں اور کچھ بیرون ملک بھی تھیں- صنعتوں کی کمر توڑنے سے تقریباً تمام ہی صنعت کار ملک چھوڑ کر چلے گئیے لیکن محمد شریف مرحوم کھڑے رہے اور دوبارہ اسکریچ سے صنعت کا آغاز کیا- ضیاء مرحوم نے انکی تباہ شدہ حالت میں صنعت واپس کی تو یہ اسکے احسان مند ہوگئیے جب ضیا نے اپنی کابینہ کے لئیے محمد شریف مرحوم سے اپنے ایک بیٹے کے لئیے درخواست کی تو باپ نے نواز شریف کو آگے کردیا- تب سے آج تک اس فیملی کو ہر ممکن طریقے سے ستایا گیا –

مشرف نے غداری اور آئین شکنی کرتے ہوے انکی حکومت ختم کی تو انکے لئیے پاکستان میں زندگی تنگ کردی گئی- انہوں نے جدہ میں سعودی اشتراک سے کامیاب اسٹیل مل لگا لی- بیٹے بڑے ہوگئیے تھے انہوں نے لندن میں جائز کاروبار شروع کردیا- دادا نے ایوان فیلڈ کے کچھ اپارٹمنٹ براہ راست پوتوں کودے دئیے- جسکے ثبوت ثاقب نثار اینڈ کمپنی نے نہیں مانے- نواز شریف کو جیل میں مارنے کی کوشش کی گئی- مشرف نے بھی قتل کی کوشش کی لیکن سعودیہ بیچ میں جسٹس تارڑ کی کوششوں سے آڑے آیا اور انہیں مجبوراً جلا وطن ہونا پڑا –

ہمیں ٹھنڈے دل سے حقائق دیکھنے، سمجھنے اور قبول کرنا چاہئیں- یقیناً شریف فیملی سے بھی بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن وہ خاندانی رکھ رکھاو والے شریف اور ایماندار لوگ ہیں ۔ عمران نیازی کی طرح ایمان و کشمیر فروش لچے لفنگے گھٹیا نہیں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو بہت کچھ دیا ہے- ہمارے بہت سے احمق دانشور ٹی وی پر بیٹھ کر غلط بیانی کررہے ہوتے ہیں- ڈاکٹر نذیر شہید نے کہا تھا جب صحافی کا قلم بکتا ہے تو قوم بکتی ہے- پھر انہیں بھی بھٹو نے شہید کروایا تھا-

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s