کیا نواز شریف و شہباز شریف چور ہیں؟

یہ بالکل بھی چور نہیں ہیں- جو لوگ شور مچاتے ہیں وہ قطعا حقائق سے آگاہ نہیں ہیں اور نیازی کے متواتر جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہیں ! اللہ انہیں ہدایت دے اور انہیں تحقیق کی توفیق عطا فرمائیے – آمین

– میں ذاتی طور پر نواز شریف صاحب سے تھوڑا واقف ہوں ، اس لئیے۔ انکے خلاف بے انتہا بہتانوں کا جواب دیتا ہوں کیونکہ بحیثیت ایک مسلمان مجھ پر لازم ہے کہ جب کسی بھی بیگناہ مسلمان جسکو میں جانتا ہوں کو بدنام کیا جائیے تو یہ آپ پر لازم ہوجاتا ہے کہ آپ اسکی بیگناہی کی شہادت دیں ورنہ ہوسکتا ہے کہ کل ہمیں بھی رسوا ء کیا جائیے اور اللہ ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دے- شریف فیملی کی منی ٹریل کے بارے میں میں نے اس بلاگ ہر پہلے اپنے بھی لکھا ہے جسے آپ حضرات پڑھ سکتے ہیں-

میں یہاں واضح کردوں کہ میری شریف فیملی سے کوئی رشتے داری، شراکت داری یا کوئی لین دین نہیں ہے اور نہ میں ن کا ممبر ہوں اور نہ ہی انکی سوشل میڈیا کا ممبر – یہاں بہت ہی مختصر بتانا چاہتا ہوں کہ شریف فیملی کے بانی مرحوم محمد شریف نے اپنے سات بھائیوں سمیت ایک کامیاب صنعت کی بنیاد رکھی اور سخت محنت اور ایمانداری سے یحیی خاں کے زمانے میں بیکو کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی صنعت بن چکی تھی- وہ کئی مشینیں بشمول ڈیزل انجن اور تھریشرز وغیرہ بنارہے تھے جو کاشتکار استعمال کرتے تھے اور یہ مشینیں وہ ایکسپورٹ بھی کررہے تھے- وہ پاک آرمی کے لئیے بھی بہت کچھ بنارہے تھے- یحیی خان کے فوٹوز موجود ہیں جب وہ انکی صنعت کا معائینہ کررہے تھے- اس زمانے میں یہ دنیا بھر سے اسکریپ لوہا امپورٹ کرتے تھے- اسوقت اس فیملی کا سیاست سے دور دور کا بھی تعلق نہیں تھا- مرحوم محمد شریف تہجد گزار تھے اور ایماندار و محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ سخت ڈسپلن کے آدمی تھے- بچے بھی انکا بےحد احترام کرتے تھے-

انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کے لئیے ماہانہ تنخواہ مقرر کر رکھی تھی- اسوقت حکومت پاکستان کو اسوقت کے سالانہ ایک ارب روپئیے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں ادا کرتے تھے- بھٹو نے پاکستان کی تمام صنعتوں کو قومیا کر انکا دھڑن تختہ کردیا- سب صنعتکار دلبرداشتہ ہوکر فرار ہوگئیے لیکن محمد شریف تمام تکالیف کو اللہ کی مدد سے جھیل گئیے اور ازسرنو صنعت شروع کی- اسوقت تک ضیا آچُکے تھے جس نے انکی صنعت لوٹا دی جو سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں کافی مخدوش اور ٹوٹ پھوٹ ہوچکی تھی- انکا بینکوں کے ساتھ اتنا صاف و شفاف ریکارڈ تھا کہ گرنڈلیز بنک نے انہیں بغیر کسی گارنٹی کے دوبارہ قرضے جاری کئیے- یہ ضیا کے احسان مند ہوچکے تھے لہذا جب ضیا نے مرحوم شریف سے ایک بیٹے کو اپنی حکومت کے لئیے مانگا تو وہ انکار نہ کرسکے اور نواز شریف کو اجازت دے دی


مرحوم محمد شریف بہت انسان دوست اور سخی انسان تھے- انہوں نے شوکت خانم کی کِل لاگت کا ستر فیصد یعنی اسوقت کے 50 کروڑ اپنی جیب سے دئیے اور طاہرالقادری جو انکی مسجد کا خطیب تھا کو بے شمار چیزیں بشمول گھر اور مرسڈیز کار- عمران نیازی نے اپنے ایک ویڈیو۔ میں اسکا اعتراف بھی کیا تھا اور طاہرالقادری نے لاہور ہائکورٹ میں جج کے سامنے اسکو تسلیم کیا تھا- مرحوم محمد شریف نے اپنے دونوں بیٹوں پر حکومت کا ایک پیسہ بھی حرام کردیا تھا- لہذا کرہشن تو دور کی بات ہے انہوں نے کبھی اپنی جائز تنخواہ بھی نہیں لی- نواز شریف وزیراعظم ہاؤس کے کچن کا سارا خرچ اپنی جیب سے دیتے رہے ہیں- شہباز شریف جو فجر کی نماز سے سخت محنت کا کام لگاتار رات دس بجے تک کرتے ہیں کی ساری تنخواہ سوات کے کڈنی سینٹر کو چلی جاتی ہے جہاں غریب مریضوں کو مفت ڈیالائسز وغیرہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے-

ایوان فیلڈ اپارٹمنٹ مرحوم شریف نے براہ راست اپنے پوتوں کو دئیے- جب مشرف نے سی آئی اے کے ایما پر نواز حکومت کا تختہ الٹا کیونکہ نواز شریف نے ایٹمی دھماکے پر اسکی بات نہ مانی اور پھر شریعت بل اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے پاس کرادیا جسکے تحت سود سمیت سارے غیر اسلامی قوانین کا خاتمہ ہوجاتا ، یہ بل مارچ میں سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے پاس ہوکر مستقل آئین کا حصہ بن جاتا جو یہودی کبھی برداشت نہیں کرسکتے تھے لہذا مارچ سے پہلے بلاوجہ مشرف نے ڈرامہ رچا کر تختہ الٹ دیا اور پھر اس فیملی کو سعودی عربیہ جلا وطن کردیا جہاں مرحوم شریف صاحب نے جدہ میں سعودی تعاون سے نہایت کامیاب اسٹیل مل قائم کردی- بعد میں سعودی عربیہ نے یہ مل نہائیت اچھے معاوضے پر پوری خرید لی- پھر مرحوم شریف نے اسکے کچھ ہیسے کوئت میں انویسٹ کئیے جسکے ثبوت ثاقب نثار ملی بھگت کے طور پر قبول نہیں کررہا تھا-شریعت بل کے فائنل مراحل میں نواز شریف صاحب نے کئی لوگوں کو مدعو کیا تھا جس میں مجھے بھی انکی دعوت ملی شاید اس لئیے کہ میں انہیں وقتا فوقتا ملک کی بہتری کے لئیے مشورے بذریعہ خطوط دیتا رہتا تھا- اسوقت جاتی عمرہ کو دیکھنے کا موقعہ ملا وہ ایک کھیت تھا جس میں مولی ، گاجر، چقندر وغیرہ کی فصلیں لگی تھی جو ٹو کروں میں شرکا ء محفل کو بطور تحفہ دئیے گئیے ، میں خو د اپنے پیسوں سے ٹکٹ خرید کر لاہور گیا تھا- سبزیوں کا ٹوکرا میں نے وہیں کسی کو دے دیا تھا- وہاں شریف مرحوم جے تین بیٹوں کے گھر جو تقریباً دو، تین کنال مشتمل تھے اور متصل دے جنکے سامنے ایک مشترکہ ورانڈہ تھا جسمیں پانچ وقت باجماعت نماز ہوتی تھی جہاں مجھے بھی ایک نماز جماعت کے ساتھ ہڑہنے کا شرف حاصل ہوا- وما علینا الا البلاغ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s