اسرائیل جانے والے وفد کی حقیقت

—اسرائیل نا منظور —-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے یوتھیوں کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسرائیل کا دورہ کرنے والے تین پاکستانیوں کا تعارف سنیں۔ انیلا علی پاکستان نژاد امریکی خاتون ہیں جو PTI کے سابق وزیر علی زیدی کی یک قالب دو جان ہیں۔ یہ علی زیدی اور عمران خان کی کوششوں سے اسرائیل گئی لیکن یہ اپنے پاکستانی نہیں بلکہ امریکی پاسپورٹ پر وہاں گئی۔

وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کپتان نے امریکیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر پاکستان لایا اور نہ صرف انھیں اپنا مشیر اور ترجمان مقرر کیا بلکہ متعدد اہم عہدوں پر انھیں نوکریاں بھی دیں۔ اسی چاہت کا نتیجہ تھا کہ سابق حکومت کے مشیروں اور ترجمانوں میں پاکستانیوں سے زیادہ امریکیوں کی اکثریت تھی۔

احمد قریشی پاکستانی نژاد امریکی شہری ھے جو بطور تجزیہ نگار کئی سالوں سے مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے معاملات میں کام کر رہا ھے۔ عمران خان کی حکومت آئی تو انھوں نے وزیراطلاعات فواد چوہدری کے ذریعے اپنے چہیتے احمد قریشی کو امریکہ سے پاکستان بلایا اور اسے سرکاری ٹی۔وی PTV میں قواعد کے برعکس بھاری بھرکم تنخواہ اور مراعات کے ساتھ اینکر پرسن کی نوکری دے دی۔

آپکو یاد ہوگا کہ اس سال اسلامی سربراہی کانفرنس کی وجہ سے 23 مارچ کی پریڈ میں متعدد اسلامی ممالک کے سربراہان بھی شریک تھے۔ خان صاحب نے وزارت مواصلات کو حکم دیا کہ 23 مارچ کی پریڈ میں کمینٹری کے فرائض میرے چہیتے اینکر احمد قریشی کو دیئے جائیں لیکن احمد قریشی کا اسرائیل نواز بیک گراؤنڈ اسلامی ممالک کے سربراہان کے سامنے کمینٹری میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔ سو وزارت داخلہ کے کچھ بیوروکریٹس نے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن خان صاحب نے یہ کہہ کر انھیں شٹ اپ کال دے دی کہ احمد قریشی جب کہے گا کہ “خواتین و حضرات اس وقت وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سلامی کے چبوترے پر پہنچ چکے ہیں جنھیں پاک فوج کا ایک چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا ھے” تو احمد قریشی کا یہ جملہ سماں باندھ دے گا۔ سو اس سال 23 مارچ کی پریڈ میں جو شخص پورا دن کمینٹری کر کے کپتان کے گن گاتا رہا اسکا نام احمد قریشی ھے جو اسرائیل کا دورہ کرنے والے وفد کا سربراہ تھا۔

دو سال پہلے کراچی کے ایک شہری فشل بن خالد نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا کہ وہ پاکستانی یہودی ھے اور اسرائیل کا دورہ کرنا چاہتا ھے لیکن مسلہ یہ ھیکہ اسکے پاسپورٹ پر لکھا ہوا ھیکہ “یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ ہر ملک کیلئے کارآمد ھے” اور دلچسپ بات یہ ھیکہ ہمارے ہر پاسپورٹ پر درج ہوتا ھیکہ آپ اس پاسپورٹ پر اسرائیل نہیں جا سکتے۔

پاسپورٹ کا اجرا خودکار مشینوں پر اجرا ہوتا ھے جس کے سافٹ ویئر میں اسرائیل کے حوالے سے لکھی گئی عبارت نہیں نکل سکتی سو خان صاحب نے انتہائی جانفشانی سے فشل بن خالد کے ایک پاسپورٹ کیلئے ایک نیا چھاپہ خانہ تیار کروایا۔ اس چھاپہ خانہ کے ذمے صرف ایک پاسپورٹ کا اجرا تھا جس پر 10 کروڑ روپے لاگت آئی اور یہ واحد پاسپورٹ جاری ہونے پر یہ چھاپہ خانہ مسمار کر دیا گیا۔ خان صاحب نے ذاتی دلچسپی لیکر فشل بن خالد کی اسرائیل روانگی کی راہ کی ہر رکاوٹ دور کی۔ یہی وہ واحد پاکستانی ھے جو اسرائیل جانے والے وفد کا رکن تھا۔

دلچسپ بات یہ کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک 75 سالوں میں فشل بن خالد پہلا اور اب تک کا آخری پاکستانی ھے جس کے پاسپورٹ پر
Not valid for Israel
والی عبارت درج نہیں ھے اور خدا کرے کہ وہ آخری ہو۔

اوپر جو کچھ لکھا اس بابت کسی ٹائیگر بھائی کو مناظرہ کرنا ہو یا ثبوت درکار ہوں تو مجھ سے رابطہ کر سکتا ھے۔ حالت یہ ھیکہ جس لیڈر نے مظفرآباد جا کر آزاد کشمیر کا جھنڈا اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ہی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو جھنڈا پکڑانے کی کوشش والی گستاخی پر نوکری سے برخاست کر دیا تھا وہ پشاور بیٹھ کر اس وزیراعظم کو اسرائیلی ایجینٹ کہہ رہا ھے جو کل اسمبلی میں فلسطین کا جھنڈا گلے میں ڈال کر آیا تھا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s