ہم کیسے اسلام سے کوسوں دور “مسلمان” ہیں

www.facebook.com/100030507623687/posts/651039852589596/

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں لادین رہا۔

خدا اور مذہب میں میرا یقین کم ہوتے ہوتےختم ہو گیا۔ ۔

شاید میری مذہب اور خداسےمتعلق معلومات اور علم کابنیادی ذریعہ جمعہ کاخطبہ تھا۔

ہمارےمولانا جب خطبےسےپہلےتقریرکرتےتو

اُنکےسنائےہوئے مذہبی قصے کہانیاں میرےدل میں بہت سوال پیداکیا کرتے

لیکن سوال پوچھنےکی ہمارے معاشرے میں روایت ہی نہیں تھی

جُمعے کے خُطبوں میں سُنے گئے قصّوں نے

میرےدل ودماغ نےایک عجیب الخلقت خدا کا خاکہ تشکیل دیاجوایک دم غصےمیں آسکتاہے

اوراچانک مہربان ہوکرگھربیٹھےرزق دےسکتاہے

جو مجھے پیدا کرنے سے پہلے یہ طےکئےبیٹھا ہےکہ میں جہنمی ہوں یا جنتی

اوراگراُس نےجہنمی لکھ دیا ہےتومجھے مرنےسےپہلے گناہوں کی دلدل میں دھکیل دےگا،

بصورتِ دیگر مجھ سے کوئی ایسا کام کرائےگا کہ میں میں بخشاجاؤں۔

میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ خدا بہت جذباتی ہے،

ہر جمعےسوچتا کہ اس بار مولانا سے اپنےخدشات سے متعلق سوال کرونگا لیکن ہمت نہ پڑی۔

پھر ایک باراسی سے ملتاجلتا سوال ہمارے علاقےکےایک معزز بزرگ جن کا نام محمود تھا اٹھا بیٹھے

پھرکیا تھا مولانا نےان پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا

حالانکہ وہ تہجداوراشراق کی نمازٰیں بھی مسجد میں ادا کرتے تھے۔

سارا علاقہ محمودصاحب کےخلاف ہوگیا،

نہ جانے کیسے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوئے

اس واقعے نے مجھےمذہب سے اور دور کردیا

اورخداسے بھی شکوہ بڑھا کہ

کیسے مڈل مین اپنےراستےمیں بٹھا دئیے ہیں

جو انکےبتائےہوئےخدا کی طرح چھوٹی سی بات پر ناراض ہوجائیں تو

کہیں پناہ نہیں ملتی۔

خداسےناواقف رہنےکی ایک وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ

خدا کے مڈل مین قرآن کوعربی میں تو پڑھاتےہیں

لیکن اس کا مفہوم اردومیں سمجھنےکی ترغیب نہیں دلاتے۔

بلکہ دانستہ حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

تعلیم کے سلسلے میں دیگر ممالک جانا ہوا تو مُختلف مذہبی معاشروں کو قریب سے دیکھا۔

جیسے اسلامی مُعاشرے میں مولانا ایک اسلامی دائرہ لیے بیٹھا ہے

اور مُختلف لوگوں کوپرکھ کر یا تو دائرے کے اندر قرار دیتا ہے یا باہر۔

ایسا ہی ہر مذہب میں کوئی نا کوئی گیٹ کیپر دیکھا

عیسائیت میں خدا کے راستے میں پوپ اور بشپ بیٹھے نظر آتے ہیں

یہود میں ربی

ہندوازم میں پنڈت

غرض یہ کہ ہر مذہب میں ایک ملتی جُلتی وضع قطع کا مڈل مین دیکھا۔

اس پس منظر میں مارکس کوپڑھ کردل و دماغ بالکل ہی مذہب کےخلاف ہوگیا۔

پھرکوئی ایک دہائی بعد ایک کانفرنس کے سلسلےمیں

مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعۃ الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔

ہر لیکچرکےآخرمیں کانفرنس کے شرکاعلما سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے جو بچپن سے میرے دل میں تھے

اورعالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے ہر سوال کا خںدہ پیشانی سے جواب دے رہےتھے۔ ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا جس کی بنیادپر میرے علاقےکےمولانانے محمودصاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔

میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کاجواب دیا۔ اب میری بھی ہمت بڑھی

میں نے پوچھا جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے

تومیں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔

پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے

قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں

ایک مُحکمات

اور دوسرے مُتشابہات۔

ضروری ہے کہ مُتشابہات کومُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے

جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے

ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات ومُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا

اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔

اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے

اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے۔

جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے

جس کا مطلب ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے۔

میں نے پھر بودا سا سوال کیا کہ

میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔

کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا

پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ

اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں۔

میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ

یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں

اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔

اس پرپروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی

اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو

کہیں گے ہم تو اُس پر چلیں گے

جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔

اگرچہ اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت۔۔

کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے

اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں

میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔

قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔

میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ

ایمان اور استدلال یعنی ریزن الگ الگ چیزیں ہیں

اور ریزننگ بھٹکا دیتی ہے۔

اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی

اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ

اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔

بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔

میرےسامنےسےجیسے اندھیرےچھٹ گئے۔

میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میراخداتوبالکل ویسا ہے

جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔

کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔

ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔

کچھ عرصہ بعد ایک نومسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔

وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔

اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان

اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔

یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کرروایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔

آج شیعہ کڑوروں میں ہیں

اور کڑوروں ہی سنّی

کہیں مالکی ہیں

کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔

ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔

افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں

جو نہ وہابی ہوں نہ دیو بندی

نہ بریلوی ہوں نہ اہل حدیث

جن کا دین صرف اسلام ہو۔

جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔

سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے ۔

اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ

کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے

کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکریوں میں بٹ چُکے ہیں۔

شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔

سورہء حج میں اللہ کہتے ہیں

پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل ملتے جن سے وہ عقل سے کام لیتے

یا ایسے کان نصیب ہوتے جن سے وہ سن سکتے۔

پس آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ ( سورہء حج آیت نمبر سنیتالیس)

اس آیت کے عین مُطابق

اللہ کی زمین میں پھرنے اور مُشاہدے نے دل کی آنکھیں کھول کر دوباررہ مُسلمان تو کر دیا

لیکن اب میں بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں

کہ میرے اردگرد کوئی سُنّی ہے کوئی شیعہ

کوئی دیوبندی ہے کوئی بریلوی

کوئی اہل حدیث ہے کوئی مُقلّد

کوئی اہلِ قُرآن ہے کوئی غیر مقلّد۔

مُجھے مُسلمان کی تلاش ہے۔

ایسا مُسلمان جو صرف مُسلمان ہو

جس کا کوئی مسلک کوئی فرقہ نہ ہو۔ ۔ ..

From the wall of

Ali Sher Usafzaye

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s