پاکستان اور عوام پر حملوں کی داستان- پڑھتا جا شرماتا جا- اب بھی توبہ کرکے سدھر جائیں!

پڑھتا جا شرماتا جا- قرآن مجید سے حقیقی دوری کی وجہ سے اخلاقی گراوٹ کا یہ حال – فاطمہ جناح رح خود الیکشن نہیں لڑنا چاہتی تھیں – متحدہ اپوزیشن نے انہیں اسلئے مجبور کیا کہ انکا خیال تھا کہ کسی اور کو کھڑا کیا تو ایوب اسکو قتل کروادی گا- فاطمہ جناح رح نے یہ بھی وعدہ لیا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئیں تو کچھ ماہ کے بعد مستعفی ہوجائیں گی- ایوب خان علیگڑھ میں کالج کے زمانے سے سی آئی اے کی کٹھ پتلی بن چکے تھے- انکی کابینہ میں انہی کی طرح کی کئ اور کٹھ پتلیاں بھی تھیں- ایوب خان نے یہودی انگریزوں کے بنائیے ہوئے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد کے سگے پوتے ایم ایم احمد کو پلاننگ کمیشن کا چیرمین بنادیا تھا جس نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دینے کے لئے اس سے قرضے لینے کا آغاز کردیا اور پھر بعد میں قادیانیوں نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کا آغاز کردیا- اسوقت سب سے پہلے ایم ایم احمد کے اس بیان نے سب کو چونکا دیا کہ مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کے بغیر بھی رہ سکتا ہے- مندرجہ ذیل مضمون جیسے موصول ہوا ویسے پیش خدمت ہے- ملک کے مسائیل کا حقیق حل کسی سیاسی یا مذہبی شخصیت یا جماعت میں نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن مجید کو مظبوطی سے مل کر تھامنے میں ہے یعنی قرآن مجید کو سوچ سمجھ کر عمل کی نیت سے پڑھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں کو سکھانے میں – رسول پاک ص چلتے پھرتے قرآن تھے ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے‏

نئی نسل کی توجہ درکار ہے

تاریخ کےکچھ حصےبار بار پڑھئیے

اور پھر کچھ یوں ہوا کہ
پاکستان میں پہلی دھاندلی عسکری،بیوروکریٹ اور پیروں وڈیروں کےگٹھ جوڑ سےہوئی

تاریخ نےکئی چہروں پرایسا غلاف چڑھا رکھاھے
انکو بےنقاب کرنا ضروری ہوگیا ہے
کیسےکیسے لوگ تھے
جو آج اپنےاپنےعلاقوں
‏کےخدا بنےبیٹھے ہیں
انکا کردار نئی نسل کےسامنےلانا ضروری ہے
گر نئی نسل کو دلچسپی ہو تو
اور کتنےہی لوگ تھےجنہوں
نے پاکستان کیلئےسب کچھ قربان کردیا لیکن غدار کہلائے
صدارتی الیکشن۔1965کےدن ہیں
جن پراب کوئی بات بھی نہیں کرتا
اور نہ انکےبارےمیں کچھ لکھاجاتا ہے
یہ پہلا الیکشن تھا
‏جسمیں بیورکریسی اور۔فوج
نےملکر دھاندلی کی تھی
1965کےصدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نےکی
پہلےالیکشن۔بالغ رائےدہی کی بنیاد پر کروانےکا اعلان کیاگیا

یہ اعلان9اکتوبر1964کو ہوا
مگر مادر ملت فاطمہ جناح
کےامیدوار بننےکےبعد
یہ اعلان ایوب خان کا انفرادی
‏اعلان ٹھہرا
اور سازش کےتحت یہ ذمہ داری حبیب اللہ خان پرڈالی گئی
یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی

1964میں کابینہ اجلاس میں
وزراء نےخوشامد کی انتہا کردی حبیب خان نےفاطمہ جناح کو ایبڈو کرنےکی تجویز دی
وحید خان نےجو وزیر اطلاعات اور کنویشن لیگ کےجنرل سیکرٹری تھےتجویز دی کہ ایوب
‏کو تاحیات صدر قرار دینےکیلئے ترمیم کی جائےایوب کےمنہ بولےبیٹے ذوالفقار بھٹو نےمس جناح کو بڑھیا اور ضدی کہا
دوسری طرف جماعت اسلامی
کےمولاناابوالاعلی مودودی
نےسندھ سےجی ایم سید
اور صوبہ سرحد سےخان عبدالغفار خان نےجبکہ مشرقی پاکستان
سےشیخ مجیب نےکھلکر
فاطمہ جناح کی حمایت کی
‏پنجاب کےتمام سجادہ نشینوں
نےسوائےپیر مکھڈ صفی الدین
کےفاطمہ جناح کےخلاف فتویٰ دیا
ایوب خان کی دھاندلی مشینری
نےالیکشن تین طریقوں سےلڑنےکا فیصلہ کیا
پہلا مذھبی سطح پر
جس کےانچارج پیر آف دیول شریف تھےجنہوں نےمس جناح کےخلاف فتوےنکلوائے

*دوسرا انتظامی سطح پر
کیونکہ62 کےآئین
‏کےمطابق ایوب خان کو یہ سہولت میسرتھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتےتھےجب تک انکاجانشین نہ منتخب ہولہذا پوری سرکاری مشینری استعمال کیگئی
جسکا نتیجہ یہ ہےکہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کےدباؤ سےجیتےجاتے ہیں

تیسری سطح پر
مس جناح کےحامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئےگئے
عدالتوں سے
‏انکےخلاف فیصلےلئےگئے
اور یہی عدلیہ کےتابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے

آخر کار
سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کےساتھ ھوگئےتھے
بھٹو فیملی جتوئی فیملی
محمدخان جونیجو فیملی
ٹھٹھہ کے شیرازی
خان گڑھ کےمہر
نواب شاہ کےسادات
بھرچونڈی۔۔رانی پور
‏ہالا👈کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کےساتھی تھے

سوائےکراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی
اندرون سندھ کےجی ایم سید

حیدرآباد کےتالپور برادران
بدین کے فاضل راہو اور
رسول بخش پلیجو
مس جناح کےحامی تھےیہی لوگ بعد میں پاکستان کےغدار بھی ٹہرا دئیےگئے

*پھر کچھ یوں ہوا
‏کہ پنجاب کےتمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین
سوائےپیر مکھڈ۔صفی الدین کو چھوڑ کر
باقی سب ایوب خان کےساتھی ھوگئےتھے
سیال شریف کےپیروں نےتو فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا
پیر آف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیااور کہا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہےایوب کو کامیاب کیاجائے
‏ورنہ خدا پاکستان سےخفا ہوجائے گا
آلو مہارشریف کےصاحبزادہ فیض الحسن نےعورت کےحاکم ہونے
کےخلاف فتوی جاری کیا
مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت
سےمذاق اورناجائز قرار دیا
مولانا حامدسعیدکاظمی
کےوالد علامہ احمد سعید کاظمی نے
‏ایوب کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا
یہ لوگ ہیں جو دین کےخادم ہیں

لاھور کےمیاں معراج الدین نے
فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیاجس سےمرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیا
معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا
موصوف موجودہ بیمار
‏وزیر صحت یاسمین راشد کےسسر تھے
گجرانوالہ کےغلام دستگیرنےمس جناح کی تصویریں کتیا کےگلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں سرکس نکالے
میانوالی کی ضلع کونسل نےفاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی
مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلی مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائےاسلام
‏نےکھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی
پیر آف زکوڑی نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سےمذاق قرار دیکر عوامی لیگ سےاستعفی دیا
اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا
دوسری طرف جماعت اسلامی
کےامیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا
ایوب خان میں
‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اورفاطمہ جناح میں
اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ
وہ عورت ہیں

پھر ہوا یہ کہ

بلوچستان میں مری سرداروں
اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کر
سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے
قاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام
‏بھی فاطمہ جناح کےمخالف تھے
اور ایوب کےحامی تھے
انہوں نےکوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی
حسن محمود نےپنجاب
سندھ کے۔روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا
پورا مشرقی پاکستان غدار تھا وہ سب مس جناح کےساتھ تھے

خطۂ پوٹھوہار کے۔تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے
‏برئگیڈئر سلطان والد چودھری نثار
ملک اکرم۔دادا۔امین اسلم
ملکان کھنڈا۔کوٹ فتح خان۔
پنڈی گھیب۔تلہ گنگ۔ایوب کےساتھ تھےاسکی وجہ یہاں کےسب لوگ فوج سےوابستہ تھےسوائےچودھری امیر۔اور ملک نواب خان کےاور جن کو الیکشن کےدو دن بعد قتل کردیا گیا
شیخ مسعود صادق نےایوب خان کی لئےوکلاء
‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا
کئی لوگوں نےانکی حمایت کی
پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے
اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھے
صدارتی الیکشن۔1965 کےدوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے
ان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی
‏شوکت حیات
خواجہ صفدر والد خواجہ آصف
چودھری احسن۔والد اعتزازاحسن
خواجہ رفیق والد سعدرفیق
کرنل عابد امام والد۔عابدہ حسین
علی احمد تالپور شامل تھےیہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح
کےساتھ رہے
صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنےکا الزام بھی لگا
یہ الزام ZA-سلہری نے
‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا
جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سےملاقات کاحوالہ دياگیا تھا
یہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھےیہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانےکیلئےآج سب اکٹھےہوئے تھے
یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایا گیا
ایوب اسکو لہرا لہرا کر
مس جناح کوغدار کہتے رہے

پاکستان کا مطلب کیا
‏لاالہ الااللّہ
جیسی نظم لکھنےوالےاصغرسودائی ایوب خان کےترانےلکھتےتھے

اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال
نےچاپلوسی کےریکارڈ توڑ ڈالےیہ وہی ظفراقبال ہیں جو آجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتےہیں
سرورانبالوی دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے
دوسری طرف حبیب جالب
‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعرتھے
جالب نےاس کام میں شہرت حاصل کی
میانوالی جلسےکےدوران جب گورنر امیرخان کےغنڈوں نےفائرنگ
کی
توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں
اسی حملےکی یادگار
بچوں پہ چلی گولی۔
ماں دیکھ کے یہ بولی نظم ہے
فیض صاحب خاموش حمائتی تھے
‏چاغی۔لورالائی،سبی ،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ، دیر،سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی،دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو۔۔کوئی ووٹ نہیں ملا
سارا اردو اسپیکنگ جو جماعت اسلامی کا گڑھ تھا
فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا
انکو کراچی سے1046
ایوب خان کو837 ووٹ ملے
‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھا
فاطمہ جناح کو ڈھاکہ
سے353
ایوب کو199ووٹ ملے
جسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نےیہ دی کہ انہیں پاکستان سےالگ ہونےپر مجبور کردیاگیا
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب،فاطمہ کےووٹ برابر تھے
مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے اور اے-سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے
‏مس جناح کوکم ووٹوں
سےشکست اکیلی عورت
فوج ،بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی
ایوب کے82۔
مس جناح کے67 ووٹ تھے
اس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے
مگر نواب کالاباغ کےڈرانےکےبعد
پیچھے ہٹ گئےیہاں تک کہ جہلم کےنتیجےپر دستخط کیلئے
‏مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سےآئے
اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی

پھر کچھ یوں ہوا کہ

جمہوریت ہار گئی اور ہمیشہ کیلئےغلام بنالی گئی جو ہنوز اسٹیبلشمنٹ کی داسی ہے

اس سارےقصےمیں ایک بات کافی اہمیت کی حامل ہےاور وہ یہ ہےکہ آج بھی اسمبلیوں میں انہی سیاسی لیڈروں
‏کی اولادیں موجود ہیں
پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا

*حوالےکیلئے دیکھئے

ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود
فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس
مادرملت۔۔ظفرانصاری۔
فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجم
اور کئی پرانی اخبارات
👈پڑھیں اور جانےآپنا ماضی”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s