سقوط ڈھاکہ کے اسباب اور آیندہ کی حکمت عملی

سقوط ڈھاکہ مسلم تاریخ کا بدترین سانحہ ہے- زندہ اقوام اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور احمقانہ حرکات سے سبق سیکھتی ہیں اور اپنی اصلاح کرتی ہیں بلکہ وہ دشمن کی غلطیوں اور کوتاہیوں ہر بھی کڑی نظر رکھتیں ہیں اور موقع سے فائدہ اٹھانے میں غفلت نہیں برتتیں!

قرآن مجید اس بارے میں بہت واضح ہے- سورہ الشمس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جس نے اپنا تزکیہ (احتساب اور اصلاح) کیا وہ کامیاب ہوگیا اور جو اس سے غافل رہا وہ نامراد ہوگیا-

ہر لحظہ مؤمن کی نئی شان ، نئی آن – گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان —اقبال رح —-

سانحہ سقوط ڈھاکہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ہے اور کوئی ایک فرد یا ایک ادارہ اسکا تنہا ذمہ دار نہیں ہے- سانحہ سقوط ڈھاکہ کا آغاز پاکستان بنتے ہی ہوگیا تھا جب پاکستان کو وزیر خارجہ ایک سکہ بند انگریز یہودیوں کے ایجنٹ اور قادیانی ظفراللہ کولگادیا گیا تھا اور وزیر خزانہ ایک بدکردار غلام محمد کو لگادیا گیا تھا اور پاکستانی فوج سے ایوب خان جیسے انگریزوں کے پٹھو کو نہیں نکالا گیا تھا-

میں یہاں پر قائداعظم محمد علی جناح رح کی دیانت پر بالکل بھی شک نہیں کررہا – لگتا ہے کہ انکی مجبوریاں تھیں یا انہیں نہرو ماؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت اور خباثتوں کا پورا ادراک نہیں تھا یا ادراک ہونے کے باوجود بھی مجبور تھے- قائداعظم نے جس جرآت سے قبائلی پٹھانوں کو کشمیر کی آزادی کے جہاد کے لئے بھیجا وہ تاریخ کا روشن باب بھی ہے اور قائداعظم کی صداقت اور اولوالعزمی پر مہر صداقت بھی

قائداعظم کی رحلت اور لیاقت علی کی شہادت کے بعد منافقوں اور فاسقوں کے لئیے راستہ ہموار ہوگیا- لیاقت علی کی شہادت سے واضح ہوگیا کہ عالمی صیہونی قوتیں پاکستان کو غلام بنائے رکھنے پر مصر تھیں- وہ کسی صورت پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتی تھیں اور اسکے لئے کسی حد تک بھی جاسکتی تھیں جبکہ اسکے برخلاف پاکستان میں کوئی ایسی قوت نہیں تھی جو دشمنوں کے ایجنٹ بننے والے غداروں کو کیفر کردار تک پہنچادے- اسرائیل کے ایک وزیراعظم کو ایک لڑکے نے بھرے مجمع میں گولی ماردی جب اس نے فلسطینیوں سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی-

قائداعظم رح کی رحلت کے بعد سکندر مرزا اور غلام محمد نے پے درپے جمہوریت پر وار کئیے – مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی بھاری اکثریت سے منتخب حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج لگادیا گیا اور سکندر مرزا جیسے ننگ وطن اور ننگ قوم کو وہاں کا گورنر لگادیا گیا

جن علماء نے ظفراللہ کی برطرفی جا مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آفس کو قادیانیت پھیلانے اور پاکستان میں قادیانیت کی جڑیں مظبوط کرنے کے لئیے استعمال کررہا تھا ، ان علماء اور انکے ساتھیوں کو کو ہزاروں کی تعداد میں بیدردی سے شہید کردیا گیا – مولانا مودودی کو ایک معلوماتی کتاب لکھنے پر پھانسی کی سزا سنادی گئی اور یہ سب کچھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بننے کے چند سالوں میں ہورہا تھا

ایوب خان کے مارشل لاء تک آنے تک قادیانی بہت اہم پوزیشن وں پر قابض ہوچکے تھے- ایوب خان کے زمانے ہی۔ میں 1965 کی جنگ میں پاکستان کو ختم کرنے کا جامع منصوبہ بنالیا گیا تھا جب دشمن کو گارنٹی دے دی گئی تھی کہ تم لاہور پر حملہ کرو کوئی مزاحمت نہیں ہوگی- اس بل بوتے پر بھارتی جرنیل نے دعوی کیا تھا کہ وہ دوپہر کو لاہور جیمخانہ میں لنچ کرے گا- اس بات کو نور خان نے اپنے ڈان میں اپنے مضمون میں واضح کیا تھا- وہ تو اللہ نے پاکستان بچالیا کچھ نوجوان کپتانوںں کی حاضر دماغی اور بروقت ایکشن لینے سے-

لیکن جو لوگ لاہور کی حفاظت سے غافل تھے اور اس روز خاکم بدھن پاکستان ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتا تھا، کیا انکا احتساب ہوا؟ کیا اتنے بڑے جرم پر انہیں کوئی سزا ملی؟ اس جرم کے سب سے بڑے مجرم موسی خان تھے-

ایوب خان سے پہلے پاکستان پر کوئی قرضہ نہیں تھا- ایوب خان کے مشیروں میں قادیانی شامل تھے جن میں جھوٹے کذاب مردود غلام احمد کا پوتا ایم ایم احمد سر فہرست تھا- انہوں نے پاکستان کو یہودی آئی ایم ایف کا غلام بنانا شروع کردیا-

دوسری طرف مشرقی پاکستان جہاں پاکستانیوں کی اکثریت رہتی تھی کے دفاع کے لئے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی- بھارت سے مقابلے کے لئے انکے پاس بری، بحری اور فضائی فوج و اسلحہ بھی نہ تھا-

تیسری طرف مشرقی پاکستان میں رہنے والے ہندوں کو بھارت کی مکمل ہشت پناہی حاصل تھی اور وہ مسلسل لسانیت کا زہر پھیلا رہے تھے اور جھانسہ دے رہے تھے کہ مشرقی و مغربی بنگال مل کر گریٹر بنگلہ دیش بنائیں گے- ہم اپنے بنگالی کلاس فیلوز سے کہتے تھے کہ مسلمان تو بیوقوف ہوسکتے ہیں، ہندو نہیں- مغربی بنگال نے کبھی بھارت سے الگ ہونے کی کوشش نہیں کی

مشرقی پاکستان میں صورتحال اتنی مخدوش ہو چکی تھی کہ کالجز میں اسلامیات کا لیکچر بھی ہندو ٹیچر لے رہے تھے- وہاں کالج گراونڈ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم عبدالمالک کو شہید کردا گیا تھا

یحیی خان نے دیانتدارانہ اور شفاف انتخابات تو کروادئیے پر انتخابی نتائج کو عملی جامعہ نہ پہنا سکے- یحیی اور بھٹو نے ووٹ کو عزت نہیں دی- مجیب الرحمن نے 167 سیٹ جیتیں اور بھٹو نے 80! بھٹو نے یحیی سے مل کر پنجاب کا وزیراعلی اور لیڈر آف اپوزیشن بننے کی بجائیے ملک توڑ دیا ،یوں یہودی، بھارتی اور قادیانی ایجنڈے پر عمل کیا- بھٹو پہلے ہی صنعتوں کو قومیا کر پاکستان کو صنعتی میدانوں میں بے انتہا پسماندہ پہلے ہی کر چکے تھے-

بیچ میں نواز شریف نے آکر عالمی یہودی اور بھارتی ایجنڈے کو کھٹائی میں ڈال دیا تھا لہذا انکی چھٹی بہت ضروری تھی- پھر نواز شریف صاحب نے بھی آستینوں میں سعید مہدی ، پرویز رشید اور مشاہد حسین جیسے سانپ پال رکھے تھے، جنہوں نے نواز شریف کو انکے انتہائی مخلص دوستوں سے دور کردیا-

خیر ماضی میں جو ہوا وہ ہوا- اب کیا کیا جائیے- پاکستان اسلام کے لئے معرض وجود میں آیا تھا- یہ وہ سیمنٹ ہے جو سندھی بشمول اردو اسپیکنگ، پنجابی، پشتو، بلوچی اور بنگالی و افغانی وغیرہ سب کو سیسہ پلائی متحد کردے گا- اسکا آغاز ہمیں اپنے گھروں سے قرآن کی عربی سیکھ کر اور اپنے بچوں کو سکھا کر اپنے معاشرے کو مظبوط کرنا ہوگا – اسی سے پاکستان میں دیرپا انقلاب آئیگا انشاء اللہ تعالی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں برسیں گی-

اسے پڑہیں اور عمل کریں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s