قرانی عربی قران مجید سے۔ سبق ۱۱

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 ”اھدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیھم ”

”اھدنا“ میں ”ا“ کا ایک اور مطلب آرہا ہے اور وہ ہے ”درخواست“ (Request)۔ ھد کے معنی ھدائت کے ہیں۔ آخر میں ”نا“ کا مطلب ہے ہمارا جیسے ربنا کا مطلب ہوتا ہے ہمارا رب ۔ اھدنا کا مطلب ہوا ہمیں ھدئت دیجئیے۔ Guide us . 

”الصراط“ ال اور صراط کا مرکب لفظ ہے۔ ”ال“ کا مطلب تو آپ جانتے ہیں ہیں ”وہ خاص“ اور ”تمام کا تمام“۔ صراط کے معنی ہیں راستہ یا Path. .“المستقیم“ استقامت سے ہے اسکا مطلب سیدھا، پراعتماد ہے۔ عربی میں ”م“ بھی واحد حرفی لفظ ہے جسکا اردو میں ترجمہ ”والا“ سے کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ”استقامت والا ” پر اعتماد راسته. ایسا راسته جسمیں کوئی شک، ابہام اور تردد یا confusion نہیں ہے۔ 

ہم اللہ ٹعالی سے زندگی کے اس واضح، شک و شبہ سے بالا تر پراعتماد سیدھے راستے کی دعا کررہے ہیں جس میں کوئی الجھن، کوئی پریشانی نہیں ہے۔ 

صراط الذین ۔ صراظ: راستہ ، ”الذین“، ”الذی“ کی جمع ہے اسکا مطلب ہے ان لوگوں (مردوں، عورتوں) کا راستہ۔۔ الذین میں مذکر اور مونث دونوں شامل ہیں۔ ”الذی“ مذکر ہے، اسکی مونث ”التی“ ہے اور جمع ”الاتی“ ہے۔ 

انعمت علیھم۔ انعمت میں یہاں ”ت“ پر زبر ہے۔ اسکا مطلب ہے تو نے نعمتیں عطا کیں تھیں

۔ اگر اس ت پر زبر کی بجایئے پیش ہوتا تا اسکا مطلب ہوتا ”میں نے نعمت کی“ْ ۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے۔ ماضی میں ”میں ” نے کیا کے لیئے ٹ پر پیش آتا ہے اور ”آپ یا تو“ کے لیئے ”ت“ پر زبرآتا ہے۔  

علیھم دو الفاظ کا مرکب ہے۔ علی اور ھم کا۔

علی کا مطلب ہے ”پر“ اور ”ھم“ کا مطلب ہے ”وہ“ یا ”انپر“ مثلا آذان میں ہم سنتے ہیں ”حئی علی الصلواہ“ اسکا مطلب ہے جلدی کرو نماز ”پر“ یہاں علی (علا پڑہا جائیگا؛ یہاں حرف علت ”ع“ ”ا“ میں بدل گیا۔ (آپکو یاد تو ہوگا کہ تین حروف علت ہیں: ”ا“ ”ٰی“ اور ”و“ جو آپس میں بدلتے رہتے ہیں مثلا عیسی اور موسی ”عیسا“ اور ”موسا“ پڑہے جاتے ہیں۔

”انعمت علیھم ” کا مطلب ہوا ”نعمتیں نچھاور کیں تو نے ان پر“ 

ٰیعنی جو بھی اس استقامت والے پراعتماد سیدھے راستے پر چلا ان پر تونے نعمتوں کی بارش فرمائی۔ 

ہم اللہ تعالی سے دعا کررہے ہیں کہ ہمیں اس سیدھے، صاف، واضح، پراعتماد راستے کی ہدائت فرما کہ جس راستے پر جو بھی چلا اسپر آپ نے نعمتیں نازل کیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں جہاں کی نعمتیں ہیں۔ 

راستہ دکھانا اللہ کا کام ہے اور اسپر چلنا ہمارا۔ اور ہمیں پتہ ہے کہ اس راستے پر چلنے میں سراسر کامیابی ہے اور اللہ تعالی کے انعامات اور نعمتیں ہیں۔ بقیہ قران مجید اس دعا کا فوری جواب ہے۔ 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلاصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ا“ کا ایک مطلب ہے درخواست کرنا

”نا“ کا مطلب ہے ”ہمیں“ یا ”ہمارا“

”م“ واحد حرفی لفظ ہے اسکے معنی ہیں ”والا“ جیسے ”محمد“ حمد والا اور ”مستقیم“ استقامت والا، واضح

انعمت (ت پر زبر کے ساتھ) تو نے نعمت کیں تھیں 

انعمت (ت کے نیچے زیر) میں نے نعمت کی تھی ۔

ٰ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s