!سورج مغرب سے طلوع ہورہا ہے

!نیوزی لینڈ سے کرنیں چھن چھن کر آرہی ہیں

نیوزی لینڈ کی مسجد النور میں حالیہ دہشت گردی کے واقعہ میں ۵۰ سے زائد مسلمان شہید ہوے۔ شقی القلب دہشت گرد نے اس پورے حملے کا ویڈیو خود بنا کر پھیلایا۔ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اسوقت پوری دنیا میں فلسطین سے لے کر کشمیر تک مسلمان ہی دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ ہیں۔ بعض لوگ اسے جنگ عظیم سویم قرار دیتے ہیں جو غیر روایتی انداز میں دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ کبھی جنگ کے شعلے عراق سے اٹھتے نظر آتے ہیں تو کبھی لیبیا سے، کبھی گھن گرج شام میں نظرآتی ہے تو کبھی یمن میں۔ کبھی جنت نظیر کشمیر شہدا کے خون سے سرخ ہوتی ہے تو کبھی برما کی جھونپڑیوں سے غریب و بیکس مسلمانوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ مسلم اقلیت بھارت میں بھی بد ترین ظلم کا شکار ہے۔ کبھی انہیں ٹرک میں گائے لے جانے پر قتل کردیا جاتا پے تو کبھی چھٹی کے دن سڑک پر کرکٹ کھیلنے پر انکے گھر میں گھس کر سارے گھر والوں کو ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے مارا جاتا ہے۔ غیر مسلم ممالک میں بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کہیں نظر نہیں آتا۔ مسلم ممالک میں بھی جو دہشت گرد تنظیمیں دشمن کے مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں ان پر بھی پابندی لگانے کا کوئی مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ ان کٹھ پتلیوں کو باقاعدہ ٹرک بھر بھر کر اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ نائین الیون کے بارے میں بھی بعض امریکی دانشوروں اور جہاندیدہ امریکی  پایلٹس کاpilotsfor911truth.org)   (موقف ہے کہ اسمیں مسلمانوں کا کوئی ہاتھ سرے سے تھا ہی نہیں کیونکہ  ہوائی جہاز ٹکرانے سے یہ واقعہ ہوا ہی نہیں ہے بلکہ اس عمارت کو اندرونی طور پر ڈائینامائٹ نصب کرکے نہائت منظم طریقے سے زمین بوس کیا گیا جیسے اکثر امریکہ میں بڑی پرانی عمارٹوں کو عمودی طرز پر منہدم کیا جاتا ہے۔ دنیا کی بہت سی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں بھی عام رائے یہ ہی ہے کہ انہیں بھی صیہونی اور دیگر اسلام دشمن قوتوں نے بنایا ہے، وہ خود انکے ذریعے دہشت گردی کرواکر ایک طرف تو مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں تو دوسری طرف انکی دہشت گرد کاروایوں کا بہانہ بنا کر مسلم ممالک پر حملہ کرتے ہیں۔ اپنے طاقتور میڈیا کے ذریعے وہ اپنے آپکو مظلوم بھی ٹہراتے ہیں کہ ہم تو”بدلہ” لے رہے تھے۔ 

نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ اس لحاظ سے کوئی بہت بڑے اچنبھے کی بات نہیں تھی کہ اسطرح کے بے شمار واقعات اب معمول بن چکے ہیں! لیکن جو چیز حیرت انگیز تھی وہ وہاں کی خاتون وزیراعظم کا رویہ تھا جس نے مصیبت کی اس گھڑی میں نہ صرف مسلمانوں کے دل جیت لیے بلکہ پوری دنیا کو بھی ایک زبردست مثبت پیغام دیا۔ لہذا نیویارک ٹائمز کا اداریہ صدر ٹرمپ کو اس سے سبق سیکھنے کا درس دیتا نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم لیسٹر جیکنڈا آرڈرن میں یہ جذبہ کیسے پیدا ہوا اور انکا رویہ کیوں دوسرے بہت سے مغربی ممالک کے سربراہوں (بشمول خواتین سربراہوں) سے کیوں مختلف ہے۔ اسکا جواب ہمیں ایک نوجوان سے انکی گفتگو میں ملتا ہے۔ اس نوجوان نے جب وزیر اعظم لیسٹر جیکنڈا آرڈرن کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے کہ اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے اور مجھ میں انسانیت موجود ہے۔ محترمہ آرڈرن نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوا تھا اور وہ خود بنیادی طور پر ایک نیک دل سچی ذہین خاتون ہیں۔ اس سے قبل وہ عیسائی مذہب کے ایک فرقے مورمن سے منسلک تھیں اور قارئین جنگ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مورمن کی کتاب میں کئی چیزیں قران مجید سے لی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ عیسائیوں کا یہ فرقہ اسلام کے بہت بعد پیدا ہوا۔ 

وزیر اعظم لیسٹر جیکنڈا آرڈرن نے اپنے انسان دوست رویے سے مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے معقول افراد کے دل جیت لیے۔ انہوں نے اس بیانیے کو تقویت دی کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ وہ سب شہریوں کا یکساں احترام کرتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف قاتل کا نام جان بوجھ کر نہیں لیا کہ اس سے وہ اسکو اہمیت نہیں دینا چاہتیں بلکہ اسکے وڈیو کو فیس بک وغیرہ پر سے غائب کرادیا تاکہ قاتل کا مقصد پورا نہ ہو اور دوسروں کو اسطرح کے تشدد کی شہ نہ ملے۔ جب صدر ٹرمپ نے اس واقعے پر ان سے ٹیلی فون پر تعزیت کی اور کہا کہ ہم آپ کے لیے کیا کرسکتے ہیں تو وزیراعظم نے برملا کہا کہ آپ اپنے مسلمانوں سے اچھا سلوک کریں۔ 

مغرب میں کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں اسلام کے بارے میں صحیح معنوں میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ بے شمار لوگ اسلام دشمن شدت پسندوں کے بہکاوے میں آئیے ہوے ہیں۔ یہ شدت پسند اسلام اور مسلمانوں کے نام سے دہشت گرد تنظیمیں بنواکر ان سے دہشت گردہ خود کروا کر اسکا الزام مسلمانوں پر دھر دیتے ہیں۔ مزید براں بعض صیہونی افراد جعلی وڈیوز بنا کر پھیلا دیتے ہیں جس سے لوگوں میں یہ تاثر پھیلتا ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ نائین الیون کے بعد بیگناہ مسلمانوں کے علاوہ داڑھی والے سکھ بھی قتل کردیے گیے۔ اس ضمن میں امریکی کانگریس مین پال فنڈلی کی کتاب “انہوں نے بولنے کی جرآت کی (They Dare to Speak out)قابل ذکر ہے جسمیں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک اتفاقیہ یمن کے دورے مٰیں انپر حقیقت ٓشکار ہوئی کہ مسلمان ایسے نہیں جیسے وہ بچپن سے سمجھتے رہے۔ پھر انہوں نے کئی بار گلہ کیا کہ مسلمان کیوں غیر مسلموں کو اپنے بہترین دین کے بارے میں نہیں بتاتے، وہ چپ کیوں رہتے ہیں۔ اپنی ایک اورکتاب میں انہوں نے اپنے علاقے اسپرنگ فیلڈ ایلیناے  (Springfield Illinois, USA)میں مقیم کئی مسلمانوں کے نام بھی شائع کردیئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنکا میں نمائندہ تھا لیکن انہیں توفیق نہ ہوئی کہ یہ مجھے اسلام کے بارے میں کطھ بتاتے۔ اسی طرح افغان جنگ کے آغاز میں کچھ امریکی رپورٹرز ہماری مسجد واقع کینساس سیٹی امریکہ میں مسلمانوں کے رد عمل لینے آیئے تو میں نے انمیں سے ایک سے پوچھا کہ وہ رسول پاک ﷺ کے بارے میں کیا جانتا ہے تو اس نے کہا کہ میرے ذہن میں یہ تصور آتا ہے کہ ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہے اور تلوار چلا رہا ہے! کینگ فیصل یونیورسٹی اسپتال الخبرکے آڈیٹوریم مٰیں ایک امریکی ریٹرڈ فوجی جسے خلیج جنگ کے لیے دوبارہ بلایا گیا تھا نے شکایت کی کہ کاش آپ یہ کتاب (قران مجید) دوسال پہلے مجھے دیتے تو میری بیوی مسلمان مرتی اور ساتھ ہی آنسووں نے اسکی سرخ داڑھی تر کردی۔ خلیجی جنگ میں کئی ہزار امریکی فوجی اسلام میں داخل ہوے۔ مجھے انمیں سے کچھ لوگوں سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ 

 خاموشی بے سزا نہیں ہے۔ اگر ہم نے دین حق جو سراسر امن اور ترقی کا صراط مستقیم ہے لوگوں تک نہیں پہنچایا اور اسکے نتیجے میں کچھ لوگوں نے غلط فہمی پر مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تو اسکی کچھ ذمہ داری ہم مسلمانوں پر بھی عائید ہوگی۔ نہ جانے کتنے لوگ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی طرح ہونگے جو اگراسلام صحیح معنوں میں سمجھ لیتے تو شائید انکا رویہ اسلام کے بارے میں بالکل مختلف ہوتا اور وہ خود اپنی حکومتوں کو مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کرنے سے روک دیتے۔ کئی سمجھدار اور پڑھے لکھے مغربی افراد اسلام میں واپس آرہے ہیں (کیونکہ ہر بچہ پیدائشی مسلم ہوتا ہے) لیکن اگر ہم اسلام کے بارے میں صحیح اور موثر انداز میں اپنے قول اور عمل سے بتائیں تو یہ تعداد بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے جس سے یقینا پوری دینا پر بہت ہی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ قران پاک اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات و کردار بھلا کس شریف النفس کا دل موہ نہ لیں گی؟ رسول پاک ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے کہ قیامت سے قبل سورج مغرب سے طلوع ہوگا، یقینا اگر اللہ چاہے تو وہ کہیں سے بھی سورج نکال سکتا ہے۔ بعض علما نے اس سورج سے مراد علم اور اسلام کا سورج قراردیا ہے۔ کیا واقعی سورج مغرب سے طلوع ہونا شروع ہوگیا ہے جسکی کرنیں ہمیں نیوزی لینڈ کے مطلع پر نظر آنا شروع ہوگیئں ہیں۔ تیزترگامزن منزل ما دورنیست .

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s